نئی دہلی،6؍نومبر (ایس او نیوزْ/پریس ریلیز) تشدد سےمتاثرہ تریپورہ کے حالات کا جائزہ لینے مسلم تنظیموں کے ایک وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ وفد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، جماعت کے نیشنل سکریٹری مولانا شفيع مدنی، آل انڈیا جمعیت اہل حدیث کے مولانا ثیث تیمی، آل انڈیا ملی کونسل کے شمس تبریز قاسمی کے علاوہ نور اسلام مرزربھوئیا جماعت اسلامی ہند کے امیر حلقہ آسام (جنوب)، امارت شر یعہ( شمالی جنوب) مولانا فریدالدین قاسمی، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے تریپورہ صدر جناب شفیق الرحمن شامل تھے۔
پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہوفد 31 اکتوبرکو اگر تلہ پہنچا اور ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی خبریں ملی تھیں۔ تریپورہ کے 8 اضلاع میں سے 4 ضلعوں میں تشدد کے واقعات کی خبر ملی ہیں۔ شمالی تریپورہ کے ضلع ہیڈ کوارٹر پانی ساگر، دھرم نگر میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں۔ مشتبہ مجرمین چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ہوتے تھے جو اندھیرے میں اپنا کام انجام دیتے تھے یا پھر جہاں مسجد سے مسلمانوں کی آبادی دور تھی۔ مجموعی طور پر 16 ایسی مساجد ہیں جنہیں نقصان پہنچایا گیا یا جلا دی گئیں۔
وفد نے متاثرہ مساجد کا بھی دورہ کیا۔ ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس خوفناک صورتحال کی وجہ سے تر یپورہ کے مسلمان خوف و دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں نے وفد کو بتایا کہ حملہ آور نامعلوم ( باہری ) لوگ تھے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سماج دشمن عناصر بنگلہ دیش میں ہوئے تشدد کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کے لئے جان بوجھ کر فرقہ وارانہ مہم چلا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے مقامی آبادی اس پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوئی اور انہوں نے فرقہ پرستوں کا ساتھ نہیں دیا۔ اس وجہ سے لوگ ان فسادیوں کی شناخت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
جائزہ لینے کے بعد مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کامطالبہ:
- پریس ریلیز میں وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس محکمہ جاتی انکوائری کرے اور فرائض میں کوتاہی کرنے والے پولیس افسران کا پتا لگائے اوران ملازمین اور تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔ ریلیز میں کہا گیا ہے کہ قصور وار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے ظاہر ہوگا کہ پولیس ایک آزاد ادارہ ہے اور اسے کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔
- ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ براہ راست ریاستی حکومت کے ماتحت ہے، اس لئے ریاستی حکومت بھی تریپورہ میں تشدد کی ذمہ دار ہے۔ ریاستی حکومت نے تشدد کو جاری رکھنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی بڑی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ جو انتہائی افسوسناک ہے۔
- وفد نے 2 نومبر کو اگرتلہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تریپورہ حکومت متاثرین کو مناسب معاوضہ دے اور توڑ پھوڑ کی گئی مساجد کی مرمت کرے۔
- حکومت پانی ساگر میں ہونے والے تشدد کے خوفناک واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا بھی وفد نے مطالبہ کیا ہے۔ ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کے پاس تشد د کی تمام فوٹیج موجود ہیں۔ جن پولیس افسران نے تشدد نہیں روکا، ان کی بھی انکوائری ہونی چاہئے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ حکومت تریپورہ تشدد کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کی فوری بھر پائی کرے۔ مساجد کی مرمت کرے۔ جن دکانوں کو جلایا گیا ان کے مالکان کو فوری معقول معاوضہ دیا جائے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعلی تریپورہ کے نام خط بھی تحریر کیا گیا ہے۔
مشاہدات:
وفد نے ڈی جی پولیس سے بھی ملنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی وفد سے نہیں ملے۔ البتہ آئی جی لاء اینڈ آرڈر نے کال کر کے ملنے کی پیشکش کی، لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔ کیونکہ وفد میں شامل اراکین کو نئی دہلی روانہ ہونا تھا۔ وفد نے تریپورہ کے وزیراعلی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک خط لکھا۔ اس خط پر وفد کے اراکین نے مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں۔ تریپورہ میں فرقہ واران تشدد اور لڑائی جھگڑوں کی کوئی تاریخ نہیں رہی ہے لیکن جب سے فرقہ وارانہ ذہنیت کے لوگوں نے ریاست میں قیادت سنبھالی ہے، فرقہ وارانہ تشدد اور توڑ پھوڑ کے ایسے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں نفرت پیدا کرنے اور ملک کے ماحول کو پولرائز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس کے باوجود پرسکون رہنا چاہئے، اشتعال انگیزی اور بھڑکاؤ سے گریز کرنا چاہئے اور تمام طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ ہمیں اس کی جانچ کرنی چاہئے اور ایسے مواد کو آگے نہیں بڑھانا چاہئے۔ تریپورہ میں بھی اس طرح کی جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلائی گئیں۔ دین اسلام میں خبروں کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کا درس دیتا ہے۔
وفد نے تین دنوں تک تریپورہ میں رہ کر مقامی مسلم و غیرمسلم متاثرین سے ملاقا تیں کی۔ تریپورہ کے وزیر اعلی سے ملاقات کرنے کی بھی کوشش کی، انہیں میٹنگ کے لئے خط لکھا گیا۔ وزیر اعلی یقین دلاتے رہے کہ وہ ملاقات کے لئے کچھ وقت نکالیں گے لیکن آخر کار وہ وفد سے نہیں ملے، یہ انتہائی افسوسناک ہے۔
وفد کا ماننا ہے کہ تریپورہ تشدد نے ملک کی شبیہ کو خراب کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا ہے کہ تریپورہ حکومت اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔ تشدد اور توڑ پھوڑ کے یہ واقعات اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ منصوبہ بند دکھائی دیتے ہیں۔ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا گیا جبکہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف اکسانا اور نفرت پھیلانا بہت بڑا جرم ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کو تشدد کرنے والوں کے خلاف بروقت کارروائی کرنی چاہئے تھی۔ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو تشدد اور توڑ پھوڑ کے ان واقعات کو روکا جاسکتا تھا۔ سماج دشمن عناصر اور فرقہ وارانہ فساد پھیلانے والوں کے حوصلے بلند ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے سیکورٹی ملنے کا یقین ہے۔
مساجد کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تا کہ مسلم کمیونٹی کے حوصلے پست ہوں اور ان کی شناخت مجروح ہو اور وہ دہشت زدہ ہو کر خوف و مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ یہ صرف تریپورہ بلکہ پورے ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔